An IIPM Initiative
بدھ, اکتوبر 1, 2014
 
 

جلد صحت یاب ہوں یوراج

 

پرشانتو بینرجی | noida, فروری 21, 2012 12:14
 


ابھی جبکہ آپ میرا یہ مضمون پڑھ رہے ہیں، یوراج سنگھ بستر پر بیٹھے لانس آرم اسٹرانگ کی ایک کتاب ’ اٹ از ناٹ اباﺅٹ دی بائک‘ پڑھ رہے ہیں۔یوراج سنگھ اس کتاب کے اپنے پسندیدہ صفحات کا مطالعہ کررہے ہیں اور آنے والے مشکل مہینوں کا سامنا کرنے کے لئے وہ خود کو تیار کررہے ہیں۔ آرم اسٹرانگ فوطے کے کینسر میں مبتلا تھے اور ان کی حالت اس قدر گمبھیر ہوگئی تھی کہ ڈاکٹروں نے 40 فیصد سے بھی کم ان کے زندہ رہنے کے امکان کی پیشین گوئی کردی تھی، لیکن وہ زندہ رہے اور بعد ازاں ٹور ڈی فرانس کے وہ فاتح بنے ۔ ٹورڈی فرانس کی جیت کسی انسان کی تاریخ کی محرک ترین داستان ہے۔
لیکن یہاں ایک داستان ایسی بھی ہے جو یوراج سنگھ کے نزدیک اس وقت کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہونی چاہئے جب وہ اپنے کینسر کے علاج کے بعد ایک بار پھر عالمی کرکٹ میں واپسی کریں ۔ اس داستان کی شروعات ایک ایلو سیٹ سے ہوتی ہے جو یوراج سنگھ سے اس وقت کہیں زیادہ دور تھی جب 2007-08 کے آسٹریلیا سمر کے دوران انہوں نے ملبورن کرکٹ گراﺅنڈ میں پوزیشن سنبھالی ۔جب گیندباز واپس اپنے نشانہ کی طرف مڑا تو یوراج سنگھ نے سورج کی طرف دیکھا اور پھر سیدھے باﺅنڈری کی طرف نگاہ ڈالی ،پھر سائٹ اسکرین پر نظر دوڑائی، پھر اسٹیڈیم کی پہلی اور دوسری قطار میں بیٹھے تماشائیوں کی طرف دیکھا ۔ اسٹیڈیم تماشائیوں اور حامیوں کے ہجوم سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھاجو خوش ہورہا تھا اور طنز کررہا تھا، لیکن یوراج سنگھ کی نظر اسٹیڈیم کی سب سے اوپر والی قطار پرپڑی جہاں بلو سیٹوں کے درمیان نازاں لٹل ایلو سیٹ تھی۔
ایسا لگا کہ یہ اسکوائر سے ایک ملین میٹر کی دوری پر ہے ۔ یہ سیٹ ایم سی جی میں کھیلنے والے ہر گیندباز پر فقرے کستی اور لعن وطعن کرتی اور یوراج سنگھ بھی اس معاملہ میں ذرا بھی مختلف ثابت نہیں ہوئے۔ سیٹ کے قریب ایک چھوٹی سی تختی ہے جو اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اس سیٹ پر ایک بار ایساسب سے بڑا چھکا جا لگا تھاکہ اس سے پہلے اس میدان میں کسی بھی بلے باز نے اتنا بڑا چھکا نہیں مارا تھا۔ واضح رہے کہ بلو سیٹوں کی قطار میں یہ ایلو سیٹ ہر ایک بلے باز کے لئے ایک چیلنج ہے جس سے آگے گزرجانے کی ہر کوئی کوشش کرتا ہے اور کارنامہ انجام دینا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں کسی کو کامیابی نہیں ملی ہے۔ لیکن یوراج سنگھ نے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کیا ۔ تاہم اس عظیم میدان پر یہ ایلو سیٹ بلاشبہ بہت دور ہے۔ یوراج سنگھ نے یہ ضرور سوچا کہ کس طرح کا ایک انسان ایک گیند کو اتنی دوری تک پہنچاسکا اور اس کا جواب وہ ایک شخص ہے جو کینسر کی بیماری میں مبتلا تھا۔
سائمن پیٹرک او ڈانل دنیا کا ٹاپر تھا ۔ یہ 1987 کی بات ہے جب آسٹریلیا نے ایلن بارڈر کی کپتانی میں ہندوستان میں عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا ۔ سائمن اس وقت ٹیم کا ایک نوجوان آل راﺅنڈر کھلاڑی تھا اور ٹیم کی جیت میں اس نے اچھی کارکردگی پیش کی تھی ۔ سائمن کے بھیگے کپڑے ابھی خشک بھی نہیں ہوئے تھے کہ معمول کی ایک جانچ کے بعد اسے یہ خبر ملی کہ اسے کینسر ہو گیا ہے، یوراج سنگھ کی داستان سے اس کی داستان بہت زیادہ مختلف نہیں تھی ۔ آج یوراج کے معاملہ کی طرح ہی سلیکٹروں اور مداحوں نے سائمن کی صحت یابی کے لئے دعائیں کی تھیں اور انہیں اس کی امید بھی تھی ، لیکن اسی کے ساتھ ان کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا تھا کہ کیا سائمن دوبارہ اپنی طاقت بحال کرلینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ایک بار پھر قومی ٹیم میں اپنی جگہ بنا پائیں گے۔ ابھی بمشکل ایک سال ہی گزرا تھا کہ سائمن نے کینسر کو شکست دیدی اور گھریلو کرکٹ میں واپسی کرلی۔ 6 ملکوں کے نہرو کپ کے لئے آسٹریلیا کی ٹیم ہندوستان آئی اور سائمن کو اس ٹیم میں کھیلنے کا موقع دیا گیا۔متشککین نے سوچا کہ کیا سائمن کا سلیکشن بلاشبہ میرٹ کی بنیاد پر ہوا ہے یا یہ کہ ان کا سلیکشن جذباتی ہے۔ تاہم زیادہ دن نہیں گزرے جب سائمن نے اپنی زبردست اور طاقتور ہٹنگ سے اپنے مخالفین کی زبانیں خاموش کردیں۔ سائمن ایک روزہ کرکٹ میچوں کے آسٹریلیا کے انتہائی اہم کھلاڑی بن گئے اور 1990 میں شارجہ میں سری لنکا کے کھلاڑیوں کوانہوں نے اپنی مضبوط بلے بازی کی بدولت تاش کے پتوں کی طرح سے بکھیر دیا۔
کینسر سائمن کا خاتمہ نہ کرسکا بلکہ اس کے بجائے کینسر نے انہیں مزید طاقتور بنا دیا۔ آج وہ اپنی عمر کی تقریباً 50 ویں بہارمیں داخل ہو چکے ہیں اور ٹیلی ویژن دنیا کے وہ ایک مقبول ترین کمنٹیٹر ہیں۔ اور اگر سائمن ایسا کرسکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یوراج سنگھ ایسا نہیں کرسکتے ؟اس مشکل وقت میں یورواج سنگھ کو جن دعاﺅں کی ضرورت ہے، وہ دعائیں ہندوستان کے لوگ ان کے حق میں کررہے ہیں۔ہمیں یہ امید ہے کہ یوراج سنگھ اپنے اندر ضرور حوصلہ وہمت محسوس کریں گے۔اب یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب کینسر کی زیادہ تربیماریاں قابل علاج بیماریاں ہو جائیں اور آج کی طرح وہ موت کا آسیب نہ بنیں۔ہم گرچہ جسمانی طور پر کمزور ہیں، لیکن اگر ہم اپنے اندر عزم وحوصلہ پیدا کریں تو ہم بیماریوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ لہذا ، جلد شفایاب ہوں، اے یوراج!

 
(Disclaimer: The views expressed in the blog are that of the author and does not necessarily reflect the editorial policy of The Sunday Indian)
 
اس مضمون کی ریٹنگ کیجئے:
برا اچھا    
موجودہ ریٹنگ 0
Post CommentsPost Comments




شمارے کی تاریخ: نومبر 1, 2012

فوٹو
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر