پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کا شمار دنیا کی بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں لسانی فسادات میں سینکڑوں افراد
ہلاک ہوئے ہیںکراچی میں کئی ماہ سے جاری خوںریز تشدد میں ایک ہی فرقہ کے دومختلف زبانیں بولنے والے افرادکے درمیان ہے۔یعنی
اردوبولنے والے ایک فریق ہیں اورپٹھان دوسرافریق ۔اردو بولنے والی آبادی تقریبا ڈیڑھ کروڑ ہے جبکہ خیبرپختون خواسے آنے والوں کی تعداد
میں اضافہ ہواہے۔ایک اندازہ کے مطابق کراچی میں پٹھانوں کی تعداد پچاس سے ساٹھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔دونوں گروپوں کو فساد کا سبب معلوم
نہیں مگردونوں کے لوگ اورخاص طورپر عورتیں اوربچے اس کا شکاربن رہے ہیں ،اوردونوں ہی سیاست دانوں کو اس خراب صورت حال کا
ذمہ دار ٹھیراتے ہیں۔
ایک خاندان ہے یمنا کا جو تیرہ سالہ لڑکی ہے اور یہ لوگ قصبہ کی پہاڑی کے نچلے حصے میں رہتے ہیں۔ اور دوسرا خاندان ہے چھ سالہ
لائبہ کا جو اسی پہاڑی کی چوٹی پر رہتا ہےیمنا کا خاندان اردو بولنے والا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو ساٹھ سال قبل برِصغیر کے بٹوارے کے بعد
پاکستان آئے تھے۔ دوسری طرف لائبہ کا خاندان پٹھان ہے۔کم سن لائبہ اس باہمی گولی باری کا شکارہوکرمرچکی ہے جبکہ ےمناکی ٹانگ میں
گولی لگی ہے۔