آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے بالآخر اپنے خراب فارم اور کھیلنے کے لئے انتظار میں بیٹھے کئی نوجوان کھلاڑیوں کو دیکھتے ہوئے یک روزہ میچوں سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر ہی لیا۔ 37 سالہ پونٹنگ نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنا یہ فیصلہ سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ”اب میں یک روزہ میچ نہیں کھیلوں گا، لیکن ٹیسٹ کھیلتا رہوں گا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ 50 اوور کے میچ سے اب علیحدگی اختیار کر لینا ہی بہتر ہے“۔
واضح رہے کہ پونٹنگ کو رواں کامن ویلتھ بینک سیریز کے بقیہ دو لیگ میچوں میں ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا۔ پونٹنگ کے لگاتار خراب فارم کے سبب سلیکٹروں نے انہیں ٹیم میں بنائے رکھنا ضروری نہیں سمجھا۔ پونٹنگ نے گزشتہ پانچ یک روزہ پاریوں میں صرف 18 رن ہی بنائے اور یہی سبب ہے کہ انہیں خود کو یک روزہ میچوں سے الگ کر لینا ہی بہتر لگا۔
جہاں تک پونٹنگ کے یک روزہ کیرئیر کا سوال ہے، تو انہوں نے 372 یک روزہ میچ کھیلے ہیں جس میں 13 ہزار سے بھی زیادہ رن ان کے حصے میں آئے۔ 30 سنچری اور 82 نصف سنچری بنانے والے رکی پونٹنگ کی بلے بازی اوسط 42 سے بھی زیادہ ہے۔ یک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد اب ان کا ارادہ ٹیسٹ کرکٹ پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کی ہے تاکہ اپنی بلے بازی سے آسٹریلیائی ٹیم کو مزید مضبوطی عطا کریں۔