An IIPM Initiative
اتوار, دسمبر 21, 2014
 
 

دل میں نہ رکو خواہشو، تیزی سے گزر جاﺅ حسّاس علاقے میں ٹھہرنا نہیں اچھا

 

TSI URDU, | Issue Dated: مئی 13, 2012, Noida
 


جواں سال شاعر عبید اعظم اعظمی نہ صرف ممبئی و مہاراشٹر میں بلکہ ملکی سطح پر منعقد ہونے والے مشاعروں کی جان سمجھے جاتے ہیں ،انتہائی مختصر مدت میں جو شہرت و بلندی انہیں نصیب ہوئی وہ کم ہی لوگوں کے حصّے میں آئی ہے۔
پیش ہیں دانش ریاض سے ہوئی گفتگو کے اہم اقتباسات

آپ نے شاعری کی ابتدا کب کی؟
13-14 سال کی عمر میں ہی یہ روگ لگ گیا اور20-22سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ لا علاج ہوکررہ گیا۔ روکنے والوں نے روکا ، سمجھانے والوں نے سمجھایا۔مگر ہوا وہی کہ جو ہونا تھا’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘۔

کیا گھریلو ماحول نے ہی آپ کو ادب سے قریب کیا یا اور کچھ وجہ تھی؟
گھر کے علمی اور ادبی ماحول کے سبب ہی طبیعت اس طرف مائل ہوئی۔میرے والد شیخ شمیم احمد صاحب کا اردو و فارسی شعروادب کا ذوق نہایت شستہ اور بہت عمدہ ہے۔والدہ صاحبہ بھی خالص دینی و علمی ماحول کی پروردہ ہیں ،اس لیے انھیں بھی اردو زبان و ادب سے شروع ہی سے لگا ﺅ رہا ہے۔میری بڑی بہن شعر تو نہیں کہتی مگر اسے شاعری سے بہت لگا ﺅ رہا ہے ،خصوصاً مذہبی شاعری سے۔میرے بچپن میں اس کے پاس پسندیدہ اشعارپر مشتمل کئی کاپیاں ہوا کرتی تھیں۔میرے چچا زاد بھائی شیخ محمد ارشد ،شبلی کالج،اعظم گڑھ میں ادب کے طالب علم تھے۔
میں جب مدرسہ روضة العلوم ،پھولپور،اعظم گڑھ میں تیسری ،چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھا تو میں نے شبلی کالج کے بی اے کے نصاب میں شامل پوری اردو شاعری کو اپنے طور پر پڑھ ڈالا تھا۔اس زمانے میں مذکورہ نصاب میں شامل اکبر الٰہ آبادی کی مشہور نظم جلوہ¿ دربار دہلی ‘مجھے بہت پسند تھی۔اس نظم کے پسند ہونے کی سب سے بڑی وجہ شاید اس کی بحر، اس کا رِ دم تھا۔اُسی دوران والد صاحب بمبئی میں کانگریس پار ٹی کے ٹکٹ پر ’ایم ایل اے‘ ہوگئے تو ہم سب بمبئی آگئے۔آفس اور گھر میں ہرطرح کے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔والد صاحب سے ملنے ملانے والوں میں اکثر و بیشتر شعرا ، ادبا ، اساتذہ اور شعبہ¿ صحافت سے منسلک افراد بھی ہوا کرتے تھے۔ان سے ملاقاتیں رہیں۔ بعد میں جب مشاعرے پڑھنے لگا تو علی سردار جعفری، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی، علی جوادزیدی، عزیز قیسی، نوشاد، کالیداس گپتا رضا، ندافاضلی، حسن کمال، عبد الاحدساز، ڈاکٹر رفیعہ شبنم عابدی، قتیل شفائی،احمد فراز، شہریار،امجد اسلام امجد،محمد علوی، راحت اندوری،ڈاکٹرملک زادہ منظور احمد وغیرہم کو بہت قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔

موجودہ ماحول میں مشاعروں کی کیا اہمیت ہے؟
فی زمانہ مشاعرے کی مقبولیت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔مشاعروں کی بہتات سے مشاعروں کا معیار گرا ضرور ہے مگر اس کی مقبولیت روز افزوں ہے۔ آج ہزاروں ٹی چینل کی موجودگی میں اور انٹر نیٹ کی مضبوط گرفت کے باوجود اگرلوگ باگ پوری پوری رات جاگ کر کھلے آسمان کے نیچے مشاعرہ سنتے ہیں تو یہ اردو زبان کا جادو ہے ۔

 نئی نسل میں زبان و ادب کے تعلق سے بے اعتنائی برتی جارہی ہے ۔آپ اس کی کیا وجہ سمجھتے ہیں؟
اس کی سب سے پہلی سب سے اہم وجہ جو میں سمجھتا ہوں وہ ہے ،ناقص نعلیمی نظام۔دوسری اہم وجہ ٹی وی اور انٹر نیٹ کا بڑھتا اثر ہے۔تیسری بات جو میرے مشاہدے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ نئی نسل پہلے معاشی طور پر مستحکم ہونا چاہتی ہے بعد میں اور بہت بعد میں ادب وادیب کے بارے میں سوچنا چاہتی ہے۔

آپ کا مجموعہ¿ کلام ابھی تک منظر عام پر کیوں نہیں آیا؟
جلد ہی ایک شعری مجموعہ ”لازوال“ کے نام سے شائع کرنے کا ارادہ ہے۔

آپ نے عروض پر بہت کام کیا ہے ۔کئی نئی بحریں بھی ایجاد کی ہیں ۔کچھ اپنی ایجاد کردہ بحور کے متعلق بتائیں؟
میں نے سب سے پہلے ’بحر اعظم ‘ وضع کی۔یہ عروض کو آسان بنانے کی سمت ایک قدم تھا۔اس بحر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس ایک بحر میں آج تک جتنی بحریں ایجاد ہوئی ہیں وہ سب بھی موجود ہیں۔اس کے علاوہ اس بحر کی مدد سے بے شمار نئے آہنگ بھی وضع کیے جاسکتے ہیں۔بحر اعظم کے علاوہ خاکسار نے آٹھ حرفی ،سات حرفی اور پانچ حرفی ارکان کے اختلاط سے ۲۸ ۔نئی بحریں وضع کی ہیں۔ان بحور کے ساتھ ساتھ رباعی کی کی بھی اٹھائیس نئی بحریں وضع کی ہیں۔

آپ کے پسندیدہ اشعار؟
ڈھلتے ڈھلتے منظر کی تہہ داری نظر میں ڈھلتی ہے
آتے آتے آنکھوں کو اندازِبصارت آتا ہے

دل میں نہ رکو خواہشو، تیزی سے گزر جاﺅ
حسّاس علاقے میں ٹھہرنا نہیں اچھا

سمتِ سفر کے واسطے منزل کی تھی تلاش
منزل ملی تو سمتِ سفر کھو گئی کہیں

اس مضمون کی ریٹنگ کیجئے:
برا اچھا    
موجودہ ریٹنگ 4.5
Post CommentsPost Comments




شمارے کی تاریخ: نومبر 1, 2012

فوٹو
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر