An IIPM Initiative
منگل, اکتوبر 21, 2014
 
 

معروف اسلامی اسکالر اور مفسر قرآن مولانا ابولکلام آزاد نے سید سلیمان ندوی کے نام اپنے اس خط میں قرآن شریف کے بعض اہم امور پر گفتگو کی ہے ۔انھوں نے اپنی تفسیر ترجمان القرآن کے بارے میں بھی سید سلیمان ندوی سے مشورہ کیا ہے اور اس پرخاصی گفتگو کی ہے۔قرآن کے رکوع کا معاملہ بھی زیر غور آیا ہے۔ یہ ایک قسم کا علمی خط ہو گیا ہے جسے قارئین کی افادیت کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔

مولانا ابوالکلام کا خط سید سلیمان ندوی کے نام

 

TSI URDU | Issue Dated: جنوری 22, 2012, Noida
 

کلکتہ، 25 اگست
اخ الاعز الاجل    انعم اللہ بلقائکم والسلام علیکم۔
والا نامہ پہنچا، مجھے خوف تھا کہ کہیں آپ پونہ سے چلے نہ گئے ہوں۔ یہ آپ نے کیونکر کیا کہ میں آپ کو بھول جاتا ہوں، غالباً تواتر و تسلسل مراسلات علائق قلبیہ کے لئے شرط نہیں ہیں۔ آپ یقین کریں کہ موجودہ عہد کے جہل عام اور فساد محیط میں اتحاد مشرب و فکر کا رشتہ ایسا قوی ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی کسی کو بھولنا بھی چاہے تو نہیں بھول سکتا۔
ارید لانسیٰ ذکر ہافکا نما -تمثل لی لیلیٰ بکل سبیل
ترجمة القرآن کے متعلق اور امور تو پیش نظر تھے، لیکن ہر پیراگراف کے لئے عنوانات قائم کرنا ایک نہایت ہی قیمتی اور مفید ترین چیز ہے جو آپ نے مجھے بتلا دیا، مجھے اس کا بالکل خیال نہ تھا، البتہ رکوع وغیرہ پیشتر سے نظرانداز تھے، اصل رکوع وہی ہے جو کسی مضمون مسلسل کا ایک مسقتل مختم بہ علامت وقف تام ٹکڑا ہو، ہفتہ عشرہ میں سورہ¿ بقرہ آ جائے گی وت آپ کے پاس بھیجوں گا، لیکن سچ یہ ہے کہ کام سے پہلے جن مشکلات کا علم نہیں ہوتا وہ کرنے پر اس طرح سامنے آ گئے ہیں کہ قدم قدم پر رک جانا پڑتا ہے۔
ایک چھوٹی سی بات عرض کرتا ہوں، مثلاً امثال القرآن ہیں اور ان کی مختلف حالتیں ہیں، غالب صورت یہ ہے کہ صرف مثال پر قناعت کی ہے اور سوائے حکم تفکر و تعقل کے اور کوئی چیز اصل میں ایسی نہیں ہے کہ جو مشبہ بہ کو واضح کرے، اب اگر ترجمہ میں بھی وہی شکل قائم رہتی ہے تو وضاحت و تفہیم کہ اصل مقصد ہے، فوت ہو جاتا ہے، اگر وضاحت کی جاتی ہے تو اختصار میں زور و بلاغت نہیں، اور اطناب میں بہت زیادہ اصل پر اضافہ ہو جاتا ہے، بعض مقامات پر میں تھوڑا بہت کامیاب ہوا ہوں کہ ایسے الفاظ جمع ہو گئے ہیں جن میں ضمناً وضاحت ہو گئی اور متن سے بھی بہت زیادہ دور نہ نکل جانا پڑا، لیکن بعض مقامات کی مشکلیں بہت سرگرداں کرتی ہیں۔سورہ¿ بقرہ کی مشہور مثال مثلہم الذی استوقد نارا فلما اضاءت الٰی او کصیب من السماءفیہ ظلمت و رعد و برق، میرا خیال ہے کہ قرآن کریم کی پہلی سورت میں یہ مثال بلا وجہ عظیم نہیں ہے، اور دراصل اس کے اندر بہت ہی بڑی تفصیل پوشیدہ ہے، اسے محض یہود و منافقین یثرب سے جس سے باہر کوئی گروہ باقی نہیں رہا، مجھے خوشی ہوئی کہ قدماءمیں ابن قیم نے اسے محسوس کیا ہے اور اجتماع جیوش کے آٹھ صفحوں میں اس پر بحث کی ہے، گو پھر بھی حسب دلخواہ نہیں ہے۔اب فرمائیے کہ اگر اس مثال کو اردو میں لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے تو کیا اثر ہوگا.
فقیر 
ابوالکلام

اس مضمون کی ریٹنگ کیجئے:
برا اچھا    
موجودہ ریٹنگ 3.4
Post CommentsPost Comments




شمارے کی تاریخ: نومبر 1, 2012

فوٹو
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر