An IIPM Initiative
بدھ, جولائی 23, 2014
 
 

مکانات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے

 

PRASOON S MAJUMDAR | new delhi, جنوری 17, 2012 14:48
 


ہندوستانیوں کے لئے ہاﺅسنگ کا خواب شرمند ئہ تعبیر ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ لگژریز اور پرعیش مکانات کے درمیان افسوسناک بات یہ ہے کہ ہندوستان میں آج بھی 85-90 ملین لوگ بے گھری کی زندگی گزار رہے ہیں اور 5 سالہ پلان کے تحت کام کرنے والے گروپ کے انکشاف کے مطابق ہندوستان کو 140 لاکھ یونٹس کی ہاﺅسنگ کی قلت کا سامنا ہے۔ ایک ملک کی حیثیت سے ابھی تک ہم نصف آبادی کو رہائش کے لئے مکان فراہم نہیں کر سکے ہیں۔ شرح ترقی اور شرح نمو میں اضافہ کے ساتھ ایک بدترین صورت حال یہ بھی ہے کہ ملک میں بے شمار لوگ بے گھری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بہت سارے ممالک میں ہاﺅسنگ کو شہریوں کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں ایسا نہیں ہے۔ ہندوستان کے آئین کے شق 21 میں صرف شہریوں کے ذاتی ملکیت کو تحفظ فراہم کرانے کی گارنٹی دی گئی ہے اور ہاﺅسنگ کو شہریوں کا بنیادی حق نہیں بتایا گیا ہے۔ راجستھان ملک کی واحد ریاست ہے جس نے ہاﺅسنگ کو بنیادی حقوق انسانی کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ ہر چند کہ حکومت نے چند پالیسیاں تیار کی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی بہترین پالیسی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جواہر لال نہرو نیشنل اربن رینوول مشن، نیشنل اربن ہاﺅسنگ اور ہیبی ٹیٹ پالیسی جیسی بہت ساری پالیسیاں ہیں جو بدعنوانی اور کرپشن کی نذر ہو گئی ہیں۔ اس طرح کے بہت سارے پروجیکٹ پیسہ کی کمی کی وجہ سے یا تو کام نہیں کر رہے ہیں یا پھر ٹائم پر انہیں رو بہ عمل نہیں لایا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے یہاں کوئی پروجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو انہیں بہت مہنگی قیمتوں پر بیچا جاتا ہے اور پھر انہیں غریب لوگوں کو کرائے پر دیا جاتا ہے جن سے کافی پیسے وصولے جاتے ہیں۔ چونکہ گھر کو منظوری دے دینے کے بعد اس کی کوئی تفتیش نہیں ہوتی تو بعد میں زمین کے مقامی مافیہ اس پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ سلم میں رہنے والوں کو بھی مجبور کیا جاتا ہے کہ وہاں سے نکل جائیں۔ انہیں بھگا کر زمین کے مافیہ اپنی عمارت تعمیر کرتے ہیں۔ جتنی بھی ہاﺅسنگ کالونیاں تیار ہو رہی ہیں، ان کی قیمتیں اتنی زیادہ رکھی جاتی ہیں کہ کوئی غریب انہیں خرید نہیں سکتا حالانکہ وہ سب غربا کے نام سے تیار کی جاتی ہیں۔ اس طرح لابینگ کی جاتی ہے اور اس قدر بدعنوانیاں ہیں کہ لاٹری سسٹم میں بھی لوگ مداخلت کرتے ہیں اور اپنے نام نکلوا لیتے ہیں۔ ڈیلرس فرضی نام ڈال کر لاٹری جیتتے ہیں اور پھر فلیٹس پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ ہمارے ملک کے برعکس کئی ممالک ہیں جنہوں نے ہاﺅسنگ کو اپنے قانون میں شامل کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں سویڈن نے علاقائی میونسپلٹی پر یہ لازم قرار دے دیا ہے کہ وہ لوگوں کو گھر فراہم کریں جب کہ کیوبا میں بہت کم قیمتوں پر غربا کو گھر دئیے جاتے ہیں۔ سنگاپور میں بھی ایک ہاﺅسنگ اور ڈیولپمنٹ بورڈ ہے جو سلم پر نگاہ رکھتی ہے اور ان کے لئے گھر تعمیر کر کے انہیں دوسری جگہ منتقل کر دیتی ہے۔ فرانس میں ایچ ایم ایل پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے جس کے ذریعہ کرایہ پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس رینٹ کنٹرول ہاﺅسنگ سے 20 فیصد شہری فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح کینیڈا، ہانگ کانگ، چین اور دوسرے کئی ممالک میں غربا کو کم در پر مکانات فراہم کئے جاتے ہیں۔ اگر غربا کو گھر کی فراہمی کے معاملے کو قانون میں شامل کر لیا جائے تو ہمارے یہاں ایک بڑا انقلاب آ سکتا ہے اور مصنوعی طور پر جو ریل اسٹیٹ ہمارے سامنے ہے اس کی بھی نگرانی کی جا سکتی ہے اور ان کے پیدا کئے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ افسران فلیٹس کو، جس پر وہ سبسیڈی حاصل کرتے ہیں، منمانے ڈھنگ سے فروخت نہ کریں۔ کوئی بھی حق، جیسے حق تعلیم، جیسے بنیادی حقوق، جیسے شہریوں کے دوسرے حقوق کارگر ثابت نہیں ہو سکتے جب تک کہ شہریوں رائٹ ٹو شیلٹر فراہم نہ کرایا جائے۔

اس مضمون کی ریٹنگ کیجئے:
برا اچھا    
موجودہ ریٹنگ 5.0
Post CommentsPost Comments




شمارے کی تاریخ: نومبر 1, 2012

فوٹو
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر