جناب چودھری صاحب کو سلام پہنچے۔
آپ نے اپنے مزاج کی ناسازی کا حال کچھ نہ لکھا اگر پیر و مرشد بھی نہ لکھتے تو میں کیونکر اطلاع پاتا اور اگر اطلاع نہ پاتا تو حصول صحت کی دعا کیونکر مانگتا کل سے وقت خاص میں میں دعا مانگ رہا ہوں یقین ہے کہ پہلے تم تندرست ہو جاﺅ گے ازاں بعد یہ خط پاﺅ گے اکثر صاحب اطراف و جوانب سے ماہ نیم ماہ کے بھیجنے کا حکم بھیجتے ہیں اور میں جی میں کہتا ہوں کہ جب مہر نیمروز کی عبارت کو نہیں سمجھے تو ماہ نیم ماہ کو لے کر کیا کریں گے صاحب مہر نیمروز کے دیباچہ میں میں نے لکھ دیا ہے کہ اس کتاب کا نام پر توستاں ہے اور اس کی دو مجلد ہیں ہیں۔ پہلی جلد میں ابتدا خلقت عالم سے ہمایوں کی سلطنت تک کا ذکر، دوسرے حصہ میں اکبر سے بہادر شاہ تک کی سلطنت کا بیان۔ پہلے حصے کا نام مہر نیم روز، دوسرے حصے کا اسم ماہ نیم ماہ بارے پہلا حصہ تمام ہوا چھاپا گیا جابجا پہنچا قصد تھا جلال الدین اکبر کے حالات کے لکھنے کا کہ امیر تمر تک کا نام و نشان مٹ گیا آں دفتر را گاﺅ خورد و گاﺅ را قصاب برد و قصاب در راہ مرد جو کتاب میں نے لکھی ہی نہ ہو وہ بھیجوں کہاں سے۔ پیر و مرشد کو میری بندگی اور صاحبزادوں کو دعا خداوند مجھے مارہرہ بلاتے ہیں اور میرا قصد مجھے یاد دلاتے ہیں ان دنوں میں کہ دل بھی تھا اور طاقت بھی تھی۔ شیخ محسن الدین مرحوم سے بطریق تمنا یوں کہا گیا تھا کہ جی یوں چاہتا ہے کہ برسات میں مارہرہ جاﺅں اور دل کھول کر اور پیٹ بھر کر آم کھاﺅں۔ اب وہ دل کہاں سے لاﺅں، طاقت کہاں سے پاﺅں۔ نہ آموں کی طرف وہ رغبت نہ معدہ میں اتنے آموں کی گنجائش۔ نہار منہ میں آم نہ کھاتا تھا کھانے کے بعد میں آم نہ کھاتا تھا رات کو کچھ کھاتا ہی نہیں جو کہوں بین الطعامین آخر روز بعد ہضم معدی آم کھانے بیٹھ جاتا۔ بے تکلف عرض کرتا ہوں اتنے آم کھاتا تھا پیٹ اپھر جاتا تھا اور دم پیٹ میں نہ سماتا تھا۔ اب بھی کھاتا اسی وقت ہوں مگر دس بارہ پیوندی آم اگر بڑے ہوئے تو پانچ سات۔ بیت دریغا کہ عہد جوانی گذشت- جوانی مگو زندگانی گزشت۔ اس کے واسطے کیا سفر کروں مگر حضرت کا دیکھنا اس کے واسطے متحمل رنج سفر ہوں تو جاڑے میں نہ برسات میں مصرعہ اے وائے ز محرومی دیدار و گر ہیچ۔
غالب