An IIPM Initiative
منگل, اکتوبر 21, 2014
 
 

فرزانہ ظفر ایک معروف شاعرہ

 

TSI URDU | Issue Dated: ستمبر 2, 2012, Noida
 

خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
سب کچھ تو ہے اس شہر میں بس تیری کمی ہے

اترپردیش کے ضلع سہارنپورکے تاریخی قصبہ نانوتہ کی گلیوں سے نکل کر علی گڑھ اور دہلی کی علمی وسعتوں میں گھر بنانے والی فرزانہ صدیقی نے اردو غزل کو تصورات کی اونچائیوں پر لے جانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ فرزانہ ظفر کے نام سے معروف اس شاعرہ نے غزل گوئی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنی مسحور کن آواز سے بھی متاثر کیا ہے۔ پیش ہے فاروق احمد سے ان کی بات چیت کے چند اقتباسات

شاعری کس طرح شروع کی؟
بچپن سے ہی نہ جانے کیوں جیسے ہی کوئی شعر دیکھا نگاہیں اسکا تعقب بعد میں کرتی تھیں وہ نگاہوں کا تعقب پہلے کرنے لگتا تھا۔ علی گڑھ جانے سے پہلے گھر میں بانو اور کھلونانام کے رسالے ہماری وجہ سے آیا کرتے تھے۔ امّی کی درس گاہ میں بیٹھ کر اردو پڑھنا لکھنا سیکھا اور جب علی گڑھ میں میرا داخلہ ساتویں جماعت میں ہوا تووہاں ایک بڑی چیز جو سامنے تھی ،وہ تھی لائبریری۔روزآنہ لائبریری جانا اور قومی آواز کے پہلے صفحے کے کونے پر جو شعر لکھا ہوتا تھا وہ نوٹ کر لےنا محبوب مشغلہ ہوتا تھا۔اور پھر کالج میں آتے آتے دو ایسی لڑکیوں کا زندگی میں آنا جنکی اردو بہت اچھی تھی اور جنکی شعر و شاعری میں کافی دلچسپی تھی۔اس طرح سے میرے شعر و شاعری کے شوق کو عروج ملا۔لیکن یہ شوق ہمیشہ پڑھنے کی حد تک ہی رہا۔

کس طرح کی شاعری کرنا زیادہ پسند کرتی ہیں؟
جی میں آزاد نظمیں لکھتی ہوں ۔اور میری تمام نظموں کا محور حدِ نظر تک پھیلے ہوئے لا محدود انسانی جذبات ہیں۔

کون سے شعراءآپ کو پسند ہیں؟
شکیل بدایونی، اخترشیرانی، سودرشن فاخر، مجاز، ساحر لدھیانوی، حسرت موہانی۔

کبھی مشاعروں میں جانے کا خیال دل میں آیا؟
بطور شاعرہ میں نے آج تک کسی بھی مشاعرہ میں شرکت نہیں کی۔رہی بات مشاعرہ سننے کی تو ڈی سی ایم کا مشاعرہ سننے کے بعد پھر کوئی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔کم سے کم میرے لئے تو نہیں۔

شاعری سے آپ کو کچھ مالی فائدہ بھی ہوتا ہے یا نہیں؟
وہ شاعری ہی کیا جو مالی فائدہ کے لئے کی جائے۔شاعری تو وہی تھی جو شاعری میر کو روٹی نہ دے سکی۔

ریڈیو پرغزلوں کے پروگراموں میں اس قدر انہماک کے ساتھ شرکت کا کیا راز ہے؟
پہلا تو ریڈیو میری نظر میں ریڈیو کم نسٹالجیا زیادہ ہے۔میں اس ریڈیو کو سن کر بڑی ہوئی ہوںجو ریڈیو آوازوں کے سحر کے ساتھ ساتھ تہذیب کا بہت بڑا گہوارہ تھا ۔اور وہی سحر تھا جس سے میں کبھی نہ نکل سکی بلکہ آج بھی ان آوازوں کے غائب ہونے کے بعد بھی انکے سحر میں مبتلارہی۔اور یقینا وہ یہ سحر اور انکی تہذیب ہی تھی جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ جہاں انسانی زندگی،تمام رشتے اور اسکے جذبے سب کمرشیل ہو چکے ہیں ۔کم از کم کمیو نٹی ریڈیو ایک واحد ایسا ذریعہ ہے جہاں سے آپ اپنی بات اپنی تہذیب کو مدِ نظر رکھ کر کر سکتے ہیں ۔ اور شاید زبان کی بھی خدمت کا ایک اچّھا ذریعہ ہے۔ہر اس انسان کا زبان پر حق ہے جو اسکو سمجھے،پڑھے اور بولے۔

آپ کے اشعار کا کوئی مجموعہ شائع ہوا ہے؟
اتّفاق سے یہ حادثہ بھی مجھ پر گزرا کہ اردو اکیڈمی دہلی نے میرا ایک شعری مجموعہ  ’حدِنظر‘ شائع کیاہے۔

کیا شاعرات کو سماجی رکاوٹوں یا دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
شاید رکاوٹیں آتی ہوں۔ مگر میرے ساتھ کبھی کوئی ایسا سانحہ نہیں ہوا ۔

کیا خواتین میں شاعری کا رجحان بڑھا ہے؟
شاعری جذباتی اظہار کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی ہے۔خواتین نے اپنی دوسری آزادی کے ساتھ ساتھ شاعری کو بھی آزادی کے رنگوں میں ڈبونے کی کوشش ضرور کی ہے۔

خواتین شعرا ءعموما غزلیات میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں، ایسا کیوں؟
کوئی بھی انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت مکمّل ہونے کی کوشش میں مکمّل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اور کیوں کہ غزل اپنے آپ میں مکمّل صنفِ سخن ہے اس لئے کوئی بھی غزل کی طرف کیوں نہ راغب ہو۔عورتوں نے جہاں دوسرے بندھن قبول کیے ہیں وہیں غزل کے بندھے ٹکے اصولوں میں بندھ کر بھی اپنی بات کو آزادی سے کہا ہے۔

آپ کے کچھ پسندیدہ اشعار؟

محبّت کے موسم کا کچھ بھی نہ پوچھ
 عجب اسکے پتّے عجب اسکے پھول

خوشبو کے جزیروںسے ستاروں کی حدوں تک
سب کچھ تو ہے اس شہر میں بس تیری کمی ہے

مدّت ہوئی ایک حادثہ عشق کو لیکن
 اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

ترے ہوتے جو ہمیں یاد بھی آیا کوئی کام
ہم نے موقوف اسے وقتِ دگر پر اٹھا ئے رکھا


اس مضمون کی ریٹنگ کیجئے:
برا اچھا    
موجودہ ریٹنگ 0
Next Story

پچھلی اسٹوری

Post CommentsPost Comments




شمارے کی تاریخ: نومبر 1, 2012

فوٹو
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر