An IIPM Initiative
پیر, اپریل 21, 2014
 
 

”ہم لوگ چین کے ساتھ بہت تجارت کرتے ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ بہتر رویہ اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔“

ہندوستانی کسٹم افسران اور چین کے اغواکاروں کے درمیان پِس رہے ہیں ہندوستانی تاجر

 

ارندم چودھری | noida, فروری 18, 2012 14:12
 

چین میں ہندوستانی تاجروں کے اغوا کے واقعہ نے دونوں ممالک کے درمیان نئے مسائل کا پٹارہ کھول دیا ہے۔ چینی عدلیہ کی خامی اس سے صاف ظاہر ہوئی ہے (جیسا کہ ہم نے چند ہفتے قبل اپنے ایک اداریہ میں ذکر کیا ہے)۔ اس کے ساتھ ہی چین میں ہندوستانی تاجروں کے ساتھ ملک بھر کے تاجروں کو جس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے بھی پردہ اٹھ گیا ہے۔ ابھی تک ان مسائل کے بارے میں کوئی بولنا پسند نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان اور چین کے درمیان ’ہول سیل‘ کی تجارت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ صدر بازار دہلی کے بہت سارے ہول سیلر چین کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ یہ لوگ بہت بڑے تاجر نہیں ہوتے کہ قانون کو جانیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے وکلاءکی مدد لیں۔ یہ سب چھوٹے تاجر ہوتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بڑی تعداد میں یہ لوگ چین جاتے ہیں اور دو تین کنٹینر میں مال بھر کر لاتے ہیں اور ہر تیسرے چوتھے مہینے لاکھوں اور کروڑوں کا مال لاتے ہیں۔ اب وہ لوگ چین میں قدم رکھنے سے گھبرا رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ اغوا کے ایک واقعہ نے پوری تجارتی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کیا یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا؟ منیش ریواری کے معاملہ پر غور کریں۔ وہ چین کے ساتھ پچھلے کئی سالوں سے تجارت کر رہا ہے اور وہ چین سے جو فائدہ اٹھاتا ہے اس کا خوب ذکر بھی کرتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں کی گھڑی کو دکھاتا ہے اور پھر چین سے حاصل ہونے والے منافع کی کہانی سناتا ہے۔ پہلی بار اس نے اس قسم کی گھڑی قرول باغ ہول سیل کے آﺅٹ لیٹ پر دیکھا تھا۔ اس نے جا کر گھڑی کی قیمت پوچھی تو معلوم ہوا کہ گھڑی 22 ہزار کی ہے۔ تو اسے کوئی حیرت نہ ہوئی۔ اس نے چین کا سفر کیا اور پھر کئی دکانوں میں اس گھڑی کو تلاش کیا اور پھر وہ اس گھڑی کو پانے میں کامیاب ہو گیا اور ایک گھڑی کی قیمت وہاں 2500 تھی جب کہ 100 سے زیادہ گھڑیاں خریدنے پر یہ قیمت 1200 روپے ہوتی۔ اس نے ایک ہی گھڑی صرف اپنے استعمال کے لئے خریدی۔ اس سے پہلے بھی اس نے چین کا سفر کیا تھا لیکن اس کا یہ سفر اتنا اچھا نہیں رہا تھا۔ ان دنوں وہ چین کے ایجنٹ کے ذریعہ چیزیں حاصل کرتا تھا۔ اپنے پچھلے سفر میں اس نے ایک چھوٹا سا معاملہ 75 ہزار کا ایک چینی ایجنٹ کے ساتھ کیا تھا تو ایجنٹ نے پیسہ لیا، اسے سامان فراہم کئے۔ لیکن پیسے کو اس نے سیلر کو نہیں دیا۔ اس بار جب وہ آیا اور سیلر کے ساتھ خود سے معاملہ کرنے کی کوشش کی تو جیسے ہی اس نے اپنے پہلے ایجنٹ کا ریسیپٹ اسے دکھایا، یہ دکھانے کے لئے اس نے پچھلی بار کتنے میں مال خریدا تھا، تو دکاندار نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے کہا کہ اسے یہ پیسہ نہیں ملا ہے۔ تو منیش نے اپنا دفاع کیا یہ کہتے ہوئے کہ اس نے پیسہ دے دیا ہے۔ لیکن کسی نے اس کی بات نہ سنی۔ منیش یہ جاننے کے باوجود کہ وہ لوگ اسے اٹھا کر لے جا سکتے ہیں اور اسے غائب کر سکتے ہیں، اپنا دفاع کرتا رہا۔ تب وہاں لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔ بات چیت سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو اس نے پولس کو اطلاع دی۔ پولس معمول کے مطابق غیر دوستانہ طریقے سے پیش آئی اور اس نے منیش سے کہا کہ وہ یہاں صرف چینی لوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہیں۔ منیش نے سوچا کہ وہ صرف تین دن کے لئے آیا ہے اور اسے بہت سارا معاملہ کرنا ہے۔ اگر وہ دوسری چیزوں میں پھنس گیا تو اور مشکل ہو جائے گی اور جیل میں چند دنوں رہنا، جیسا کہ دوسرے لوگ رہ چکے ہیں، کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ تو وہ تیار ہو گیا معاملہ رفع دفع کرنے کے لئے۔ اور وہ دوبارہ 50 فیصد پیمنٹ کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ چونکہ یہ وہ بہت بڑی رقم نہیں تھی۔ اس سال وہ چین جانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اب وہ ایک ہندوستانی ایجنٹ کے ذریعہ کام کرتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں ہندوستانی ایجنٹ نے پورا پیسہ نہیں دیا ہوگا اور اگر وہ چین چلا جائے تو کہیں پھر نہ پکڑا جائے اور وہاں کے دکاندار اسے دھر دبوچیں۔ جب کہ وہ اپنے ہندوستانی ایجنٹ کو پچھلے کنٹینر کے لئے 37 لاکھ دے چکا ہے۔ بلاشبہ یہ خوفناک صورت حال ہے۔ باہری تجارتی کمیونٹی کے لئے چین میں سیکورٹی کا کوئی بہترین انتظام نہیں ہے۔ منیش کہتے ہیں کہ ”ہم لوگ برابر چین کا مال خریدتے ہیں لیکن چین میں ہمیں سیکورٹی نہیں ملتی۔ وہاں کوئی ہیلپ لائن نہیں ہے اور وہ لوگ ہماری بات کو سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔ کوئی غلطی کرتا ہے اور کوئی اس کی قیمت چکاتا ہے۔ ابھی حال میں جو اغوا کا معاملہ ہوا تو اس سے لوگوں کی دہشت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چین سے کافی کمایا بھی ہے“۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے منیش کہتے ہیں کہ ”گڑگاﺅں میں ہندوستانی پیشہ وروں کو تشویش لاحق ہے کیونکہ بہت ساری چینی کمپنیاں ہندوستان میں کام کر رہی ہیں اور وہ چینی ملازمین کو اپنے یہاں جگہ دے رہی ہیں اور اس طرح ہندوستانی پیشہ وروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گڑگاﺅں میں کام کرنے والے لوگوں کو تشویش ہے کہ ان کے ارد گرد مختلف پروجیکٹوں کے لئے بہت سارے چینی مزدور ہوتے ہیں۔ ہم لوگ نہ صرف یہ کہ چینی لوگوں کو اس بات کی اجازت دے رہے ہیں کہ وہ یہاں ملازمت حاصل کریں۔ وہ ہمیں بہت اچھی نگاہ سے دیکھتے بھی نہیں، ہرچند کہ وہ یہاں سے پیسے بھی کماتے ہیں۔ منیش بھی کم و بیش اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم لوگ چین کے ساتھ بہت تجارت کرتے ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ بہتر رویہ اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے اغوا کے واردات سامنے آ رہے ہیں اور بلاشبہ اس معاملے کے لئے ہندوستان اور ہندوستانی نظام بھی ذمہ دار ہے۔ ہندوستانی تاجر اکثر و بیشتر مال کے لئے آرڈر دیتے ہیں لیکن ہمارے کسٹم آفیسر رشوت کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اور جب کوئی تاجر رشوت نہیں دے پاتا تو انہیں سبق سکھانے کے لئے، تاکہ وہ دوسری بار رشوت دے، ان کا مال وہ فیسٹیول کے دوران جاری نہیں کرتے۔ ان کا مال پھنس جاتا ہے تو وہ ایجنٹ کا پیسہ روک لیتے ہیں۔ تو پھر ایجنٹ اپنے چینی تاجر کو پیسہ نہیں دے پاتا۔ اس طرح ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے اور نتیجہ کار ہندوستانی تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور منیش تیواری کی طرح مشکلات کا سامنا کرنے والے بہت سارے تاجر ہیں۔ یہ وہ تاجر ہیں جو چینی مال کے بغیر بھی تجارت کر سکتے ہیں لیکن یہ لوگ چین میں پاﺅں رکھنے سے گھبراتے ہیں۔ چینی انتظامیہ اور ہندوستانی انتظامیہ کے درمیان ایک خاص قسم کے قانون کی ضرورت ہے تاکہ ان چھوٹے تاجروں کو آسانیاں پہنچائی جا سکیں۔ صرف یہ کہنا کہ ’ایوو‘ تجارت کے لئے محفوظ نہیں ہے، یہ کوئی مسئلہ کا حل نہیں ہے جب کہ یہ وہی علاقے ہیں جہاں سے بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔ یہی وہ مقامات ہیں جہاں سے ہندوستانی تاجر کافی فائدہ کماتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ کسٹم میں افسران، جو کہ رشوت خور ہیں، ان کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ تاجروں کو نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خاص طور سے تہواروں کے موقع پر۔

 
(Disclaimer: The views expressed in the blog are that of the author and does not necessarily reflect the editorial policy of The Sunday Indian)
 
اس مضمون کی ریٹنگ کیجئے:
برا اچھا    
موجودہ ریٹنگ 0
Post CommentsPost Comments




شمارے کی تاریخ: نومبر 1, 2012

فوٹو
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر