An IIPM Initiative
ہفتہ, دسمبر 20, 2014
 
 

طلبہ و اساتذہ کی رہنمائی و تربیت ناگزیر ہے

 

دانش ریاض | Mumbai, اپریل 29, 2011 14:18
 

مولانا عبدالبر اثری فلاحی فیروس ایجوکیشنل فاونڈیشن،ممبئی کے ناظم اعلی ٰاور تنظیم اساتذہ مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری ہیں۔انہوں نے حال ہی میں جو فکر انگیز مضمون تحریر کیا ہے وہ تمام اساتذہ کے لئے مشعل راہ ہے،میں من و عن ان کی تحریر پیش کرتا ہوںوہ رقم طراز ہیں” حکیم جالینوس کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے شاگردوں کو کچھ بتایا اور پھر دریافت فرمایا کہ کیا میری باتیں تمہاری سمجھ میں آئیں۔ شاگردوں نے ادباً عرض کیا :ہاں، لیکن حکیم جالینوس نے کہا کہ ”نہیں، تم کہتے ہو کہ باتیں سمجھ میں آگئیں لیکن تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے ابھی پورے طور پر نہیں سمجھا“۔چنانچہ انہیں پھر دوبارہ سمجھایا۔سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین بھی پیشہ سے معلم تھے۔ چنانچہ جامعہ ملیہ میں ایک مرتبہ انگریزی کا ایک سبق پڑھا رہے تھے۔ تقریباً طلبہ سمجھ گئے لیکن ایک طالب علم نے کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آیا چنانچہ انہوں نے وہی سبق دوبارہ پڑھایا ۔ پھر دریافت کیا کہ سمجھ میں آیا یا نہیں طالب علم نے کہا کہ سمجھ میں نہیں آیا۔ چنانچہ آپ نے پھر وہی سبق پڑھایا ۔ اسی طرح آپ پڑھاتے رہے اور پوچھتے رہے ۔ چنانچہ وہی ایک سبق نو مرتبہ پڑھایا پھر بھی طالب علم نے جب کہا کہ سمجھ میں نہیں آیا تو اس طالب علم کو الزام دینے کے بجائے خود ہی اس احساس سے رو پڑے کہ کہیں مجھ میں ہی تو کوئی کمی نہیں ہے۔ڈاکٹر آرنلڈ سے ایک دفعہ سوال کیا گیا کہ تعلیم دینے سے پہلے آپ ہر روز اسباق کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ”میں چاہتا ہوں ، میرے شاگرد ہر روز نئے چشمے کا تازہ پانی پئیں۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ سڑاہوا اور رکاہوا پانی پئیں“۔امام ابوحنیفہ کپڑے کا کاروبار کرتے تھے اور لوگو ںکو پڑھاتے بھی تھے چنانچہ آپ کے حلقہ درس سے یوسف نامی ایک طالب علم غیر حاضر رہنے لگا تو آپ کو فکر ہوئی ۔ والد کو بلایا تو پتہ چلا کہ والدکا انتقال ہو چکا ہے اور گھر کی ضرورت کےلئے وہ محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ والدہ کو سمجھایا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم زندہ کیسے رہیں گے اور کھائیں گے پئیں گے کہاں سے ؟ امام ابو حنفیہ نے جواب دیا۔ تمہارے گھر کے جتنے اخراجات ہیں وہ میرے ذمے۔ مجھ سے لیا کرنا لیکن اس بچے کو میرے حلقہ درس میں بیٹھنے دو اور اسے تعلیم حاصل کرنے دو۔ چنانچہ پڑھ لکھ کر یوسف امام اور چیف جسٹس بنے۔امام شافعی کے سلسلے میں آتا ہے کہ وہ حصول علم کے لئے امام مالک کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تحصیل علم کے بعد جب رخصت ہونے لگے تو امام مالک نے انہیں ڈھیروں مال و اسباب سے لاد دیا۔ انہو ںنے عرض کیا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ تو امام مالک  نے فرمایا ”زاد راہ کے طور پر رکھ لو راستے میں کام آئے گا۔ گھر پر اپنی والدہ کو تنہا چھوڑ آئے تھے کچھ ان کی خدمت میں پیش کردینا “۔اصحاب صفہ جو رسول اللہ ﷺ کے شاگرد وں کی جماعت تھی۔ ان کی تعلیم و تربیت کے ساتھ آپﷺ ان کی سرپرستی بھی فرماتے تھے۔ اصحاب صفہ کی ضروریات کی تکمیل کے لئے لوگ اپنا تعاون دیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک صاحب نے اصحاب صفہ کےلئے کھجوریں بھجوائیں لیکن وہ معیاری نہیں تھیں آپﷺ نے جب دیکھا تو ناراض ہوئے اور فرمایا ”جیسی کھجوریں اس نے بھجوائی ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس کو ویسی ہی کھجوریں دے گا“۔میں نے بطور نمونہ یہ چند واقعات نقل کئے ہیں ورنہ ایسے سیکڑوں واقعات نقل کئے جاسکتے ہیں لیکن نقل مقصو د نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ کتنا فرق آگیاہے ہمارے ماضی کے اساتذہ اور آج کے اساتذہ میں ۔انہیں صرف اپنی فکر نہیں بلکہ طلبہ کی فکر رہتی تھی۔ وہ صرف نام نہاد ڈیوٹی ہی کے قائل نہ تھے بلکہ واقعی علم کی پیاس بجھانے اور زیور علم سے آراستہ کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ انہیں صرف پڑھانے سے غرض نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ طلبہ کے جملہ مسائل کے بارے میں سوچتے تھے اور انہیں حل کرتے تھے۔ انہیں صرف اپنی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا تھا بلکہ طلبہ کی تکلیف سے تڑپ اٹھتے تھے۔ ذرا ہم اپنے دامن میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم کہاں ہیں اور کیسے ہیں؟معلمی تو بے تاج بادشاہی ہے اگر معلم واقعی اپنا فرض پورا کرے تو طالب علم غلام بن جاتے ہیں ۔ ایک دو دن کے نہیں زندگی بھر کے ۔ کبھی کسی موڑ پر ملاقات ہو جائے تو ان کی نیاز مندی ملاحظہ فرمائیں۔ کسی زر خرید غلام سے ایسی نیاز مندی کم ہی دیکھنے کو ملے گی۔ کیاآپ کو معلوم ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر نے وصیت کی تھی کہ مجھے خلد آباد میں میرے استاد شیخ زین الدین کے پائتانے دفن کیا جائے ۔ کبھی آپ نے غور کیا ایسی وصیت انہوں نے کیو ںکی ؟ صرف جذبہ نیاز مندی و احسان مندی سے ۔ کیا کسی بادشاہ کے تئیں ایسی خراج عقیدت آپ نے دیکھی ہے؟ آج بھی معلم بے تاج بادشاہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنے فرض منصبی کا حق ادا کریں۔ کیا وہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار پاتے ہیں؟امریکہ کے پہلے صدر کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ میری قبر کے پتھر پر امریکہ کا بانی صدر نہ لکھا جائے بلکہ انہوں نے (اخیر عمر میں) جویونیورسٹی قائم کی ہے اس یونیورسٹی کا بانی لکھا جائے ۔ چنانچہ وہ بھی محسوس کرتے تھے کہ امریکہ کا صدر بننے سے بڑا اعزاز ایک یونیورسٹی کا بانی بننا ہے اور اپنے آپ کو معلم کی حیثیت سے دنیا میں باقی رکھنا ہے۔“
یہ ایک حقیت ہے کہ فیروس ایجوکیشنل فاونڈیشن نے پورے مہاراشٹر میں درس و تدریس کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی، عام بچوںکے ذہن و دماغ میں اسلامی تعلیمات کو راسخ کرنا، خصوصاً ایسے طلبہ کے اندر جو انگریزی ا سکولوں میںزیر تعلیم ہیں اور اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہیںیا پھر تھوڑی بہت شد بد رکھتے ہیں کو اسلام کے بنیادی دروس دینا اور نہ صرف فیضیاب کرنا بلکہ انہیں اس پر کاربند کرنا بھی یہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں،طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت و ٹریننگ بھی اسی انداز میں ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کے مستقبل کو سنواریں بلکہ ایک لائق و فائق اطاعت شعار و فرما بردار طالب علم بھی بنائیں۔ یقینااس وقت پورے ملک میں تعلیمی بیداری پرزور و شور سے کام ہو رہا ہے اور ملت کا ہر حساس فردقوم و ملت کے نو نہالوں کو سربلندی پر پہنچانے میں اپنی حتی المقدور کوششیں بجا لا رہا ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ مولانا نے مثالوں کے ذریعہ جو پیغام دینے کی کوشش کی ہے کیا ہمارے اساتذہ و طلبہ اس پیغام کے مطابق اپنا علمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ؟کیا ہمارے اساتذہ اسلاف کے نقش قدم پر
چلتے ہوئے کسی طالب علم کو دسیوں بار سمجھا سکتے ہیں؟یقینا بہت سارے لوگ اس کا جواب نفی میں ہی دیں گے،جب اگر ہم اپنے طالب علموں پر کوئی اچھی چھاپ نہیں چھوڑ سکتے تو پھر ہم ملت کی سر بلندی کے خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟فیرس فاﺅنڈیشن نے طلبہ کی ذہنی آبیاری کے ساتھ اساتذہ کی فکری تربیت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے پورے ملک میں عام کیا جائے اور جن جامع نصابوں کو ترتیب دے کر علمی و فکری مواد فراہم کیا گیا ہے ،اسے بھر پور انداز میں عام کیا جائے کہ ہماری نسل کم از کم اسلاف کے گرد ِپا کو تو پالے۔

 
(Disclaimer: The views expressed in the blog are that of the author and does not necessarily reflect the editorial policy of The Sunday Indian)
 
اس مضمون کی ریٹنگ کیجئے:
برا اچھا    
موجودہ ریٹنگ 0
Post CommentsPost Comments




شمارے کی تاریخ: نومبر 1, 2012

فوٹو
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر
چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوآنگلی بھارت کے دورہ پر